بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر انقلاب اسلامی، حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے 'ہفتۂ حکومت' کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کرکے، حکومت ـ بالخصوص سچے اور ہمدرد صدر ـ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے تمامتر رکاوٹوں اور امریکی ـ صہیونی دشمن کی مختلف النوع سازشوں، پابندیوں اور ناکہ بندیوں میں شدت آنے کے باوجود، قابل قدر اقدامات سرانجام دیئے ہیں۔ آپ نے "ایران کی طاقت اور قوت" کے بیانیے کی تشریح اور نمایاں کرنے، اور "قومی اور عمومی حوصلے پس کرنے اور نا امیدی پھیلانے" والی کسی بھی بات اور "غیرحقیقی دھڑے بندیوں" سے پرہیز کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا: "دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہر اس عمل کا ارتکاب، جو سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچائے، ممنوع ہے۔"
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
[ہجری شمسی سال کے چھٹے مہینے] شہریور کا پہلا [اور اگست کا آخری] ہفتہ، اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کی خدمات کی یاددہانی کا موقع ہے۔ امسال اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو یہ فخر و اعزاز حاصل ہے کہ ہفتۂ حکومت کے ایام، ربیع الاول کے دو مولودوں (صلوات اللہ و سلامہ علیہما و آلہما) کی برکت و سعادت سے بھرپور ولادت کے موقع پر واقع ہؤا ہے۔
حکومت کے کارکنوں، فعال منتظمین اور سچے اور دِلْ سوز صدر کو تحسین
بندہ اس موقع پر تمام سرکاری اداروں کے کارکنوں اور فعال منتظمین کو، خاص طور پر چودھویں حکومت کے سچے اور دل سوز صدرِ جمہوریہ کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ خاص طور پر ان شائستہ اقدامات کی وجہ سے جو رکاوٹوں اور امریکی-صہیونی دشمن کی مختلف سازشوں اور پابندیوں اور ناکہ بندیوں میں شدت کے باوجود، تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد، عوام کی اشیائے ضرورت اور مختلف خدمات کی فراہمی، نقصان سے دوچار ہونے والے اہم مقامات کی تعمیر نو، اور توانائی کے نظم و نسق کے سلسلے میں اٹھائے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مناسب ہے کہ ہم شہید صدورِ جمہوریہ رجائی اور رئیسی، اور شہید وزیرِ اعظم باہنر، اور مختلف ادوار میں حکومت کے شہید کارکنوں، منتظمین اور وزراء کو خراجِ عقیدت پیش کریں، اور ان سب میں اولیت عظیم الشان رہبرِ شہید کو حاصل ہے جو تقریباً دو ادوار تک صدرِ جمہوریہ کے منصب پر فائز رہے، اور ان سب کے لئے درجاتِ عالیہ اور عنایاتِ الٰہیہ کی دعا کریں۔
کمزوری، نقص اور قلت کو بیاں اور نمایاں کرنے کی ضرورت نہیں؛ اسے حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور عمل کی ضرورت ہے
عوام کی خدمت اور جمہوری اسلامی کے اہداف کی پیروی کا موقع ایک بیش بہا نعمت ہے جس کی پاسداری کرنی چاہئے۔ موجودہ دور، اور اس نازک اور پیچیدہ صورتِ حال میں، جو "ہر ممکن حد تک مضبوط ایران" کے حصول کی مہم، کو درپیش ہے، اس ہدف کے حصول کے لئے ضروری امور میں سے ایک، شب و روز کی کوشش اور مسلسل جدت کے علاوہ، ایران اور اس کی عزیز قوم کی طاقت اور قوت کے بیانیے کی تشریح و بیان ہے۔
کمزوری، نقص اور قلت کو نقل کرنے اور نمایاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ اسے دور کرنے اور حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور عمل کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات ـ جب دشمن کو حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے، ـ اپنی کمزوریوں کا سچا اظہار، اس کے لیے بڑا مددگار ثابت ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ دوستوں اور ساتھیوں کے دلوں کو پریشانی میں ڈال دے اور انہیں مضطرب اور متحیر کر دے۔
ہاں! جب یہ سچے بیانات صرف ہمارے عوام اور ہمدردوں تک پہنچیں، تو نقصان کم ہو جاتا ہے۔ لیکن قرآنی تعلیم "وَامّا بِنِعمَة ربِّكَ فَحَدِّث؛ (اور اپنے پروردگار کی نعمت کو ظاہر کرتے رہئے)" کی رو سے طاقت، قوت اور مثبت پہلوؤں کا اظہار کرنا اور انہیں نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔
ایران کی عزیز عوام، جنہوں نے گذشتہ چھ مہینوں میں دشمن کے خلاف جہاد، میدان میں موجودگی، اتحاد، ہم دلی اور یکجہتی کے مختلف پہلوؤں میں اپنی حقیقی قدر و منزلت کو عیاں کر دیا ہے، وہ اس بات کے لائق اور مستحق ہیں کہ اسلامی جمہوریہ میں حکومت اور ذمہ دار اداروں کی خدمت گزاری [کا اثر]، اس مقدس نظام کی مطلوبہ سطح اور اس مبعوث شدہ قوم کے شایانِ شان مقام تک پہنچنے کی راہ میں، انہیں محسوس ہو۔
یقیناً جو کچھ ذیل میں بیان کیا جائے گا وہ خدمت گزار حکومت کے پروگراموں میں سرفہرست ہے یا کسی نہ کسی طرح اس کے اہداف کی فہرست میں شامل ہے، اور اس موقع پر اس کا ذکر محض یاددہانی کی خاطر ہے۔
ان میں معاشی-معیشتی چیلنجوں کے سلسلے پر سنجیدہ توجہ شامل ہے، جیسے مہنگائی و افراط زر، بے روزگاری، قیمتوں اور اشیاء و خدمات کی منڈی میں نظم و ضبط، اور معاشی شعبے کے بعض دیگر عناصر پر خاص توجہ، جیسے ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور اس کی مفید اور ضروری سمتوں میں ہدایت، پیداوار کی رونق، ڈالر کے اہم کردار کا بتدریج خاتمہ، اور بالآخر معاشی مزاحمت کی پالیسیوں کے مجموعے کو محور و مرکز بنانا۔ اس سلسلے میں ـ "اندرون ملک پیداوار پر زیادہ سے زیادہ انحصار" ـ کے عنوان کو ان تمام امور کے حل کے لئے کلیدی عنصر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بلاشبہ عمومی اور خصوصی اشیاء کی کافی مقدار کا حصول خود ایک قطعی ضرورت ہے، جس کے پیشِ نظر، جہاں داخلی پیداوار کافی نہ ہو، وہاں درست اور دانشمندانہ طریقے سے درآمدات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ فطری طور پر پیداوار کی حوصلہ افزائی اور ساتھ ہی درآمدات اور قیمتوں کا انتظام، اس صورتِ حال کا باعث بنتا ہے کہ ملکی معیشت کی تختی پر جو تاریک دھبے نمایاں ہیں، وہ بتدریج چھوٹے اور چھوٹے ہوتے جائیں، یہاں تک کہ مکمل طور پر مٹ جائیں۔
اس میدان میں، اگرچہ دشمن کا جنگ اور اس کے بعد کا رویہ بے اثر نہیں ہے، لیکن اس شعبے کے اجزاء کی زیادہ سے زیادہ دانشمندانہ منصوبہ بندی، اور بعض معاملات میں عوام کے افراد سے، اور بعض میں ماہرین اور تکنیکی ماہرین سے مدد لینا، اور نئی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا، ملک کو معاملات کی توسیع اور تعمیر و ترقی کی طرف لے جائے گا۔
اس قوم کا کٹر دشمن یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تعمیر و ترقی کا راستہ اس کے اتّباع اور اس کی بے جا خواہشات سے گذرتا ہے؛ جبکہ اس نے گذشتہ ادوار میں، حتیٰ کہ انقلاب اسلامی سے برسوں پہلے، اس ملک اور اس کے وسائل پر جو کچھ ڈھایا ہے، وہ اس کے اس دعوے کے برعکس رہا ہے۔
نوجوان ماہرین کی تجویز کردہ ٹیکنالوجیز اور ایجادات و اختراعات کا استعمال اہم ہے
اور دیگر اہم مسائل میں سے ایک، نوجوان ماہرین کی تجویز کردہ ٹیکنالوجیز اور ایجادات و اختراعات اور جدتوں کا استعمال ہے۔ بعض اوقات اس پیشرفت کا بروقت استعمال اور کسی معاملے میں روایتی اور مرسوم عادات کو ترک کرنا، ملکی ترقی اور نمو کی راہ میں مؤثر چھلانگوں کا سبب بنتا ہے۔ یہ عمل پیداوار کی تمام شعبوں ـ بشمول زراعت، صنعت، ثقافت اور تربیت، یا مواصلاتی اور سماجی امور ـ اخوں میں قابلِ تصور ہے۔
اتحاد اور قومی یکجہتی کی حفاظت، حکومت کے تمام اجزاء کی توجہ کا مرکز
اور پھر ملکی بنیادی مسائل میں سے، ـ جس کو ہمیشہ حکومت، حکومتی اہلکاروں اور تمام ذمہ داروں اور حکومتی اجزاء کی توجہ کا مرکز ہونا چاہئے، ـ اتحاد کی رعایت اور سماجی یکجہتی کی حفاظت ہے۔ تمام بڑے میدانوں ـ بشمول ثقافت، معاشرتی معاملات، سیاست، سلامتی اور امن و امان و معیشت ـ میں کوئی بھی اقدام، سماجی یکجہتی سے متعلق ضمیمے کو ملحوظ رکھ کر، عمل میں لانا چاہئے۔
بعض اقدامات، ـ جنہیں شاید ملک کے بعض طبقوں میں حمایت بھی حاصل ہو ـ اگر قومی یکجہتی کے اس ضمیمے سے خالی ہوں، یا جن میں، عملی طور پر، مرتب کردہ اس ضمیمے سے غفلت برتی جائے، تو وہ ان ہی طبقوں، اور دوسروں، کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا کسی بھی عمل کا ارتکاب ممنوع ہے
بے شک کوئی بھی مایوس کن اور قومی و عمومی ہمت و حوصلے کو کمزور کرنے والی بات، اور ہر قسم کی بے بنیاد دہراپن، ـ جیسے 'جنگ یا مذاکرات'، 'یکجہتی یا انتہاپسندی'، 'مصالحت یا جنگجوئی' ـ جس نے ماضی میں ہماری عزیز قوم کو براہِ راست یا بالواسطہ نقصان پہنچایا ہے، آئندہ بھی ویسا ہی اثر ڈال سکتا ہے۔ لہٰذا میں دوٹوک اعلان کرتا ہوں کہ سماجی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی عمل ممنوع ہے۔
اور دیگر اہم مسائل میں سے ایک، ثقافت، تعلیم اور تربیت کے معاملے پر ماورائے تزویراتی (Metastrategic) توجہ دینا ہے۔ 'ماورائے تزویراتی' کا مطلب یہ ہے کہ دیگر حکمتِ عملیوں کو اس معاملے کو پیشِ نظر رکھ کر، مرتب کرنا چاہئے۔ اس سلسلے میں ان طبقوں پر خاص توجہ ـ جو مثبت اور تعمیری ثقافت کے فروغ کا سرچشمہ ہیں؛ جیسے تعلیم و تربیت، جامعات اور حوزات علمیہ کے اساتذہ، اور نیز وہ نرسز اور ڈاکٹر جنہوں نے غیر نجی اداروں [سرکاری اسپتالوں] میں اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے وقف کر رکھا ہے، ـ خاص اہمیت رکھتی ہے؛ اسی طرح گھریلو خواتین کے کردار پر توجہ بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے، جو اپنے گھروں کی حدود میں اس سرزمین کے ہر بچے کو مستقبل کے حسین اور مطلوبہ کلچر کے نازک ترین نقوش کی تعلیم دیتی ہیں۔
امید ہے کہ ان امور اور دیگر مفید امور پر عملدرآمد، ـ جو بحمد اللہ حکومت کے پروگراموں کی فہرست میں موجود ہیں، ـ ہمارے عزیز ملک کو "ہر ممکن حد تک مضبوط و طاقتور ایران" کی طرف لے جائے گا، اور اس راستے میں سرگرم افراد کو ہمارے سرور (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی خاص توجہ، اور دعائے خیر، برکت اور ہدایت کا مستحق بنائے گا۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
28 اگست 2026ع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ